Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1883 (مشکوۃ المصابیح)

[1883] رواہ البخاري (851، 1430)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ ﷺ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ إِلَی بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِہِ فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِہِ فَخَرَجَ عَلَيْہِمْ فَرَأَی أَنَّہُمْ قَدْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِہِ قَالَ: ((ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَكَرِہْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِہِ)) . رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لَہُ قَالَ: ((كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ فَكَرِہْتُ أَنْ أبيتہ))

عقبہ بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے مدینہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز عصر ادا کی تو آپ سلام پھیر کر کھڑے ہوئے اور تیزی کے ساتھ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی بعض ازواج مطہرات کے حجروں کی طرف تشریف لے گئے،صحابہ کرام آپ کی اس تیزی اور جلدی سے پریشان ہو گئے جب آپ ان کے پاس واپس تشریف لائے اور آپ نے دیکھا کہ انہوں نے آپ کی تیزی پر تعجب کیا ہے،آپ نے فرمایا:’’مجھے سونے کی ایک ڈلی (ٹکڑا) یاد آ گئی جو ہمارے پاس تھی،مجھے ناگوار گزرا کہ وہ مجھے اللہ کی یاد سے روکے رکھے،لہذا میں نے اس کی تقسیم کا حکم فرما دیا۔‘‘ بخاری،اور صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے،فرمایا:’’میں نے صدقہ کی سونے کی ڈلی گھر چھوڑی تھی،میں نے اسے رات بھر گھر رکھنا نا پسند کیا۔رواہ البخاری۔