Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1884 (مشکوۃ المصابیح)
[1884] إسنادہ حسن، رواہ أحمد (104/6 ح 25240) ٭ موسی بن جبیر: حسن الحدیث کما حققتہ فی السراج المنیر في تحقیق تفسیر ابن کثیر، و لم أکمل ھذا الکتاب۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ عِنْدِي فِي مَرضہ سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ أُفَرِّقَہَا فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيُّ اللہِ ﷺ ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْہَا: ((مَا فَعَلَتِ السِّتَّةُ أَوِ السَّبْعَة؟)) قلت: لَا وَاللہ لقد كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ فَدَعَا بِہَا ثُمَّ وَضَعَہَا فِي كَفِّہِ فَقَالَ: ((مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللہِ لَوْ لَقِيَ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہَذِہِ عِنْدَہُ؟)) . رَوَاہُ أَحْمد
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو میرے پاس آپ کے چھ یا سات دینار تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں انہیں تقسیم کر دوں،لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف نے مجھے مصروف رکھا،آپ نے ان کے متعلق پھر مجھ سے پوچھا:’’آپ نے ان چھ یا سات دیناروں کا کیا کیا؟‘‘ میں نے عرض کیا،اللہ کی قسم! آپ کی تکلیف نے مجھے مصروف کر دیا،انہوں نے وہ منگائے،پھر انہیں اپنی ہتھیلی میں رکھا،فرمایا:’’اللہ کا نبی کیا گمان کرے کہ وہ اللہ عزوجل سے ملاقات کرے اور یہ اس کے پاس ہوں۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ احمد۔