Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1885 (مشکوۃ المصابیح)
[1885] حسن، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (1345، نسخۃ محققۃ:1283) [وسندہ حسن و فیہ اختلاف کثیر، و لہ شواھد عند الطبراني (340/1۔ 341) وغیرہ۔ ]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَی بِلَالٍ وَعِنْدَہُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: ((مَا ہَذَا يَا بِلَالُ؟)) قَالَ: شَيْءٌ ادَّخَرْتُہُ لِغَدٍ. فَقَالَ: ((أَمَا تَخْشَی أَنْ تَرَی لَہُ غَدًا بخارا فِي نَار جَہَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ من ذِي الْعَرْش إقلالا))
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلال ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو اس وقت کھجوروں کا ایک ڈھیر ان کے پاس تھا،آپ نے فرمایا:’’بلال! یہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،میں نے کل کے لیے کچھ ذخیرہ کیا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تم ڈرتے نہیں کہ کل روز قیامت تو اسے جہنم کی آگ دیکھے گا،بلال! خرچ کر اور عرش والی ذات سے مفلسی کا اندیشہ نہ کر۔‘‘ حسن،رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔