Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1902 (مشکوۃ المصابیح)
[1902] متفق علیہ، رواہ البخاري (3321) و مسلم (154 / 2245)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَی رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْہَثُ كَادَ يَقْتُلُہُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّہَا فَأَوْثَقَتْہُ بِخِمَارِہَا فَنَزَعَتْ لَہُ مِنَ الْمَاءِ فَغُفِرَ لَہَا بِذَلِكَ)) . قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَہَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: ((فِي كُلِّ ذَاتِ كبد رطبَة أجر))
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ایک بدکار عورت کو بخش دیا گیا کہ وہ کنویں کے کنارے ایک کتے کے پاس سے گزری جو کہ اپنی زبان باہر نکالے ہانپ رہا تھا،قریب تھا کہ شدت پیاس اسے ہلاک کر ڈالے،اس نے اپنا جوتا اتارا اور اسے اپنے دوپٹے سے باندھ کر اس کے لیے پانی نکالا تو اسے اس وجہ سے بخش دیا گیا۔‘‘ عرض کیا گیا،کیا حیوانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ہر جان دار چیز کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں اجر ہے۔‘‘ متفق علیہ۔