Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1915 (مشکوۃ المصابیح)

[1915] ضعیف، و أبو داود (3476 و 1669) ٭ سیار بن منظور و أبوہ مستوران و ثقھما ابن حبان وحدہ۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ بُہَيْسَةَ عَنْ أَبِيہَا قَالَتْ: قَالَ: يَا رَسُول اللہ مَا لشَيْء الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ((الْمَاءُ)) . قَالَ: يَا نَبِيَّ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ((الْمِلْحُ)) . قَالَ: يَا نَبِيَّ اللہ مَا لاشيء الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: ((أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْر خير لَك)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

بہیسہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں،انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’پانی۔‘‘ انہوں نے پھر عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’نمک۔‘‘ انہوں نے پھر عرض کیا،اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’یہ کہ تم بھلائی کے کام کرو،وہ تمہارے لیے بہتر ہیں۔‘‘ ضعیف۔