Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1934 (مشکوۃ المصابیح)
[1934] متفق علیہ، رواہ البخاري (1466) و مسلم (1005/45)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ)) قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَی عَبْدِ اللہِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِہِ فَاسْأَلْہُ فَإِنْ كَانَ ذَلِك يَجْزِي عني وَإِلَّا صرفتہا إِلَی غَيْركُمْ قَالَت فَقَالَ لِي عَبْدُ اللہِ بَلِ ائْتِيہِ أَنْتِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللہ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم حَاجَتي حَاجَتہَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قد ألقيت عَلَيْہِ المہابة. فَقَالَت فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَہُ ائْتِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَخْبَرَہُ أَنَّ امْرَأتَيْنِ بِالْبَابِ تسألانك أتجزئ الصَّدَقَة عَنْہُمَا علی أَزْوَاجِہِمَا وَعَلَی أَيْتَامٍ فِي حُجُورِہِمَا وَلَا تُخْبِرْہُ مَنْ نَحْنُ. قَالَتْ فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَسَأَلَہُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ ہما)) . فَقَالَ امْرَأَة من الْأَنْصَار وَزَيْنَب فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَيُّ الزَّيَانِبِ)) . قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللہِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((لَہما أَجْرَانِ أجر الْقَرَابَة وَأجر الصَّدَقَة)) . وَاللَّفْظ لمُسلم
عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’خواتین کی جماعت! صدقہ کرو،خواہ اپنے زیورات میں سے کرو۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں میں (اپنے شوہر) عبداللہ کے پاس واپس آئی تو میں نے کہا: آپ غریب آدمی ہیں،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے،آپ ان کے پاس جا کر مسئلہ دریافت کریں،اگر تو جائز ہو تو میں تم پر صدقہ کروں ورنہ پھر تمہارے علاوہ کسی اور پر کروں؟ وہ بیان کرتی ہیں عبداللہ ؓ نے مجھے فرمایا: آپ خود ہی جائیں،وہ بیان کرتی ہیں،میں گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کھڑی تھی اسے بھی میرے والا مسئلہ ہی درپیش تھا،وہ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی با رعب شخصیت تھے،پس بلال ؓ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے انہیں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ دروازے پر دو عورتیں آپ سے مسئلہ دریافت کرتی ہیں کہ وہ اپنا صدقہ اپنے خاوندوں اور ان کے زیر پرورش یتیم بچوں کو دے سکتی ہیں؟ لیکن انہیں ہمارے متعلق نہ بتانا کہ ہم کون ہیں،زینب کہتی ہیں،بلال ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ وہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے عرض کیا،ایک انصاری خاتون اور ایک زینب ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کون سی زینب؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،عبداللہ کی اہلیہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ان دونوں کے لیے دگنا اجر ہے،قرابت داری کا اجر اور صدقے کا اجر۔‘‘ بخاری،مسلم،الفاظ حدیث مسلم کے ہیں۔متفق علیہ۔