Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1981 (مشکوۃ المصابیح)
[1981] رواہ مسلم (29۔ 30 /1088)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ تَرَاءَيْنَا الْہِلَالَ. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: ہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ. وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: ہُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْہِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: ہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: ہُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. فَقَالَ: أَيُّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوہُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ مَدَّہُ لِلرُّؤْيَةِ فَہُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوہُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْہُ. قَالَ: أَہَلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُہُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِن اللہ تَعَالَی قد أَمَدَّہُ لِرُؤْيَتِہِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ)) . رَوَاہُ مُسلم
ابوالبختری ؒ بیان کرتے ہیں،ہم عمرہ کے لیے روانہ ہوئے،جب ہم نے بطن نخلہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو ہم چاند دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوئے،تو کچھ لوگوں نے کہا: یہ تیسری رات کا ہے،کسی نے کہا: دوسری رات کا ہے،ہم ابن عباس ؓ سے ملے تو ہم نے کہا: ہم نے چاند دیکھا تو کسی نے کہا: وہ تیسری رات کا ہے اور کسی نے کہا: دوسری رات کا ہے،انہوں نے فرمایا: تم نے کس رات اسے دیکھا تھا؟ ہم نے کہا: فلاں فلاں رات،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (رمضان) کی مدت اس کی رؤیت مقرر کی ہے،وہ (رمضان) اس رات سے شروع ہوتا ہے جس رات تم اسے دیکھو۔اور ابوالبختری ؒ کی ایک دوسری روایت میں ہے: انہوں نے کہا: ہم نے ذات عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا،تو ہم نے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ایک آدمی کو ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے اس (شعبان) کو اس (ہلال رمضان) کی رؤیت تک دراز کیا ہے،اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی کو مکمل کر لو۔‘‘ رواہ مسلم۔