Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1996 (مشکوۃ المصابیح)

[1996] رواہ مسلم (1099/49)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ أَحَدُہُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ: يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ. قَالَتْ: أَيُّہُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ. قَالَتْ: ہَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَی. رَوَاہُ مُسْلِمٌ

ابوعطیہ ؒ بیان کرتے ہیں،میں اور مسروق،عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا: ام المومنین! محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک جلدی افطار کرتے ہیں اور جلد ہی نماز (مغرب) پڑھتے ہیں،جبکہ دوسرے دیر سے افطار کرتے ہیں اور دیر سے نماز پڑھتے ہیں،انہوں نے فرمایا: ان میں سے کون جلد افطار کرتا ہے اور جلد نماز پڑھتا ہے؟ ہم نے عرض کیا عبداللہ بن مسعود ؓ،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا،جبکہ دوسرے ابوموسی ؓ ہیں۔رواہ مسلم۔