Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2018 (مشکوۃ المصابیح)

[2018] رواہ البخاري (الصوم باب: 28 بعد ح 1934)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عَطاء قَالَ: إِن مضمض ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيہِ مِنَ الْمَاءِ لَا يضيرہ أَنْ يَزْدَرِدَ رِيقَہُ وَمَا بَقِيَ فِي فِيہِ وَلَا يَمْضُغُ الْعِلْكَ فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكَ لَا أَقُولُ: إِنَّہُ يُفْطِرُ وَلَكِنْ يُنْہَی عَنْہُ. رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ

عطا ؒ بیان کرتے ہیں،اگر کلی کرے،پھر منہ کے پانی کو گرا دے تو پھر اگر وہ اپنا تھوک اور جو پانی اس کے منہ میں باقی رہ گیا تھا نگل لے تو اس کے لیے مضر نہیں،البتہ وہ گوند نہ چبائے،اگر وہ گوند کا لعاب نگل لے تو میں نہیں کہتا کہ وہ روزہ توڑ لے گا،لیکن اسے اس سے روکا جائے گا۔امام بخاری نے اسے ترجمعہ الباب میں روایت کیا ہے۔رواہ البخاری۔