Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2042 (مشکوۃ المصابیح)
[2042] متفق علیہ، رواہ البخاري (1988) و مسلم (110 / 1123)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَہَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ بَعْضُہُمْ: ہُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُہُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْہِ بقدح لبن وَہُوَ وَاقِف عل بعيرہ بِعَرَفَة فشربہ
ام فضل بنت حارث ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن ان کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا تو کچھ نے کہا: آپ روزہ سے ہیں،اور کچھ نے کہا کہ آپ روزہ سے نہیں ہیں،میں نے دودھ کا پیالہ آپ کی خدمت میں بھیجا،آپ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار تھے،تو آپ نے اسے نوش فرمایا۔متفق علیہ۔