Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2094 (مشکوۃ المصابیح)

[2094] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (1380) [و صححہ ابن خزیمۃ (2200) و أصلہ عند مسلم (1168)]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيہَا وَأَنا أُصَلِّي فِيہَا بِحَمْد اللہ فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُہَا إِلَی ہَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ: ((انْزِلْ لَيْلَة ثَلَاث وَعشْرين)) . قيل لِابْنِہِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْہُ لِحَاجَةٍ حَتَّی يُصَلِّيَ الصُّبْحَ فَإِذَا صَلَّی الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَہُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَيْہَا وَلحق بباديتہ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن انیس ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میں اپنے جنگل میں رہتا ہوں،اور میں الحمد للہ وہیں نماز پڑھتا ہوں،آپ مجھے ایک رات کے متعلق حکم فرمائیں کہ میں اس رات اس مسجد میں قیام کروں،آپ نے فرمایا:’’تئیسویں رات کو قیام کر۔‘‘ ان کے بیٹے سے پوچھا گیا،آپ کے والد کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: جب آپ عصر پڑھ لیتے تو مسجد میں داخل ہو جاتے اور پھر آپ کسی حاجت کے لیے وہاں سے نہ نکلتے حتیٰ کہ نماز فجر پڑھ لیتے،جب فجر پڑھ لیتے تو وہ مسجد کے دروازے پر اپنی سواری پاتے اور اس پر سوار ہو کر اپنے جنگل میں آ جاتے۔اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد۔