Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2120 (مشکوۃ المصابیح)
[2120] رواہ مسلم (804/252)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم يَقُول: ((اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّہُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِہِ اقْرَءُوا الزَّہْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّہُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّہُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّہُمَا غَيَايَتَانِ أَو فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِہِمَا اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَہَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَہَا حَسْرَةٌ وَلَا تستطيعہا البطلة)) . رَوَاہُ مُسلم
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا،’’قرآن پڑھا کرو،کیونکہ وہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا،سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران دو چمکتی ہوئی روشن سورتوں کو پڑھو،کیونکہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل ہیں یا دو سائبان ہیں یا پرندوں کے غول ہیں جو صفیں باندھے ہوئے اپنے پڑھنے والوں کے حق میں بحث و مباحثہ کریں گے،سورۂ بقرہ پڑھا کرو،کیونکہ اسے حاصل کر لینا باعث برکت اور اسے ترک کر دینا باعث حسرت ہے،اور جادوگر اسے حاصل نہیں کر سکتے۔‘‘ رواہ مسلم۔