Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2141 (مشکوۃ المصابیح)

[2141] إسنادہ ضعیف جدًا، رواہ [عبد اللہ بن] أحمد (148/1۔ 149 ح 1278) والترمذي (2905) و ابن ماجہ (216) و الدارمي (لم أجدہ) ٭ حفص بن سلیمان: متروک الحدیث مع امامتہ فی القراءۃ (ضعفہ الجمھور) و کثیر بن زاذان: مجھول .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْہَرَہُ فَأَحَلَّ حَلَالَہُ وَحَرَّمَ حَرَامَہُ أَدْخَلَہُ اللہُ بِہِ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَہُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَہْلِ بَيْتِہِ كُلِّہِمْ قَدْ وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ. رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيب وَحَفْص بن سُلَيْمَان الرَّاوِي لَيْسَ ہُوَ بِالْقَوِيِّ يَضْعُفُ فِي الْحَدِيثِ

علی ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جس نے قرآن پڑھا،اسے یاد کیا اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے اہل خانہ کے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی تھی۔‘‘ احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی۔اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے،اور حفص بن سلیمان راوی قوی نہیں،وہ حدیث میں ضعیف سمجھا جاتا ہے۔اسنادہ ضعیف جذا۔