Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2186 (مشکوۃ المصابیح)

[2186] إسنادہ ضعیف، رواہ الدارمي (466/2 ح 3426، نسخۃ محققۃ: 3502) ٭ السند مرسل و یونس بن عبید بن دینار العبدي البصري مدلس و عنعن .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: ((مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ لَمْ يُحَاجِّہِ الْقُرْآنُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ لَہُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسَمِائَةً إِلَی الْأَلْفِ أَصْبَحَ وَلَہُ قِنْطَارٌ مِنَ الْأَجْرِ)) . قَالُوا: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: ((اثْنَا عَشَرَ ألفا)) . رَوَاہُ الدِّرَامِي

حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جو شخص رات میں سو آیات تلاوت کرتا ہے تو اس رات قرآن اس سے جھگڑا نہیں کرتا،جو شخص رات میں دو سو آیات پڑھتا ہے تو اس کے لیے رات بھر کا قیام لکھ دیا جاتا ہے،اور جو شخص رات میں پانچ سو سے ہزار آیات تلاوت کرتا ہے تو صبح کے وقت اس کے لیے ڈھیروں اجر ہو گا۔‘‘ انہوں نے عرض کیا،ڈھیروں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا:’’بارہ ہزار۔‘‘ اسنادہ ضعیف۔