Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2198 (مشکوۃ المصابیح)

[2198] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (3666) ٭ العلاء بن بشیر: مجھول، و حدیث مسلم (2979) و ابن حبان (الموارد: 2566) یغني عنہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: جَلَست فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُہَاجِرِينَ وَإِنَّ بَعْضَہُمْ لِيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَامَ عَلَيْنَا فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟)) قُلْنَا: كُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَی كتاب اللہ قَالَ فَقَالَ: ((الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَہُمْ)) . قَالَ فَجَلَسَ وَسَطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِہِ فِينَا ثُمَّ قَالَ بِيَدِہِ ہَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوہُہُمْ لَہُ فَقَالَ: ((أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُہَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنصْف يَوْم وَذَاكَ خَمْسمِائَة سنة)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں،میں مہاجرین کی ایک کمروز جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا،اور ان میں سے بعض (عام لباس کی وجہ سے) برہنہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے پیچھے چھپے ہوئے تھے اور قاری ہمیں قرآن سنا رہا تھا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور آ کر کھڑے ہو گئے،جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا۔آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کیا اور پھر فرمایا:’’تم کیا کر رہے تھے؟‘‘ ہم نے عرض کیا ہم بغور قرآن کریم سن رہے تھے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میری امت میں ایسے افراد بنا دیے جن کے پاس ٹھہرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے وسط میں بیٹھ گئے تاکہ آپ ہم سب کو برابر شرف بخش سکیں،پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا تو انہوں نے حلقہ بنا لیا اور وہ سب آپ کے سامنے آ گئے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’مہاجرین کی جماعت فقراء! تمہیں قیامت کے روز مکمل نور کی خوشخبری ہو،تم مال دار لوگوں سے نصف سال پہلے،اور وہ پانچ سو سال ہے،جنت میں جاؤ گے۔‘‘ اسنادہ ضعیف۔