Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2210 (مشکوۃ المصابیح)
[2210] إسنادہ ضعیف، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (2007، نسخۃ محققۃ: 1852، 1854) ٭ فیہ أبو بکر بن أبي مریم: ضعیف، و علل أخری، ولأصل الحدیث شواھد .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ وَكَانَتْ لَہُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((يَا أَہْلَ الْقُرْآنِ لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوہُ حَقَّ تِلَاوَتِہِ مِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَأَفْشُوہُ وَتَغَنُّوہُ وَتَدَبَّرُوا مَا فِيہِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَلَا تَعْجَلُوا ثَوَابَہُ فَإِنَّ لَہُ ثَوَابًا)) . رَوَاہُ الْبَيْہَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
عبیدہ ملیکی ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اہل قرآن! قرآن کے معاملے میں سستی و تغافل نہ برتو،جیسے اس کی تلاوت کا حق ہے ویسے صبح و شام اس کی تلاوت کرو،اس (کی تعلیمات) کو عام کرو،اس کے علاوہ دوسری چیزوں سے بے نیاز ہو جاؤ،اس پر تدبر کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ،دنیا میں اس کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ (آخرت میں) اس کا ثواب (بہت زیادہ) ہے۔‘‘ اسنادہ ضعیف۔