Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2211 (مشکوۃ المصابیح)
[2211] متفق علیہ، رواہ البخاري (2419) و مسلم (27 /818)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ ہِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يقْرَأ سُورَة الْفرْقَان علی غير مَا أقرؤوہا. وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَقْرَأَنِيہَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْہِ ثُمَّ أَمْہَلْتُہُ حَتَّی انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ فَجِئْتُ بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ. فَقلت يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي سَمِعْتُ ہَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيہَا. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَرْسِلْہُ اقْرَأ فَقَرَأت الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُہُ يَقْرَأُ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((ہَكَذَا أُنْزِلَتْ)) . ثُمَّ قَالَ لي: ((اقْرَأ)) . فَقَرَأت. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((ہَكَذَا أنزلت إِن الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تيَسّر مِنْہُ)) . مُتَّفق عَلَيْہِ. وَاللَّفْظ لمُسلم
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے ہشام بن حکیم بن جزام ؓ کو سورۃ الفرقان اس انداز سے ہٹ کر پڑھتے ہوئے سنا جس انداز سے میں اسے پڑھتا تھا اور جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سکھایا تھا،قریب تھا کہ میں فوراً اس سے تعرض و انکار کرتا،لیکن میں نے اسے مہلت دی حتیٰ کہ وہ (قراءت سے) فارغ ہو گیا،پھر میں نے اس کی گردن میں اس کی چادر ڈالی اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لا کر عرض کیا،اللہ کے رسول! میں نے اسے اس انداز سے ہٹ کر سورۃ الفرقان پڑھتے ہوئے سنا ہے جس انداز سے آپ نے اسے مجھے پڑھایا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسے چھوڑ دو،(اور اسے فرمایا) پڑھو۔‘‘ اس نے اسی قراءت سے پڑھا جو میں نے ا س سے سنی تھی،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسی طرح نازل کی گئی ہے۔‘‘ پھر مجھے فرمایا:’’پڑھو۔‘‘ میں نے پڑھا تو فرمایا:’’اسی طرح نازل کی گئی ہے کیونکہ قرآن سات لہجوں میں مجھ پر اتارا گیا ہے،ان میں سے جس لہجے میں آسانی سے پڑھ سکو پڑھو۔‘‘ بخاری،مسلم۔اور الفاظ حدیث مسلم کے ہیں۔متفق علیہ۔