Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2219 (مشکوۃ المصابیح)
[2219] متفق علیہ، رواہ البخاري (5001) و مسلم (801/249)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنَّا بِحِمْصَ فَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ سُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ رَجُلٌ: مَا ہَكَذَا أُنْزِلَتْ. فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: وَاللہِ لَقَرَأْتُہَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: ((أَحْسَنْتَ)) فَبَيْنَا ہُوَ يُكَلِّمُہُ إِذْ وَجَدَ مِنْہُ رِيحَ الْخَمْرِ فَقَالَ: أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ؟ فَضَرَبَہُ الْحَد
علقمہ ؓ بیان کرتے ہیں،ہم حمص (ملک شام) میں تھے،تو ابن مسعود ؓ نے سورۂ یوسف تلاوت فرمائی تو کسی آدمی نے کہا: اس طرح تو نازل نہیں ہوئی،تو عبداللہ ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں پڑھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:’’تم نے بہت خوب پڑھا۔‘‘ اس اثنا میں کہ وہ شخص ان سے باتیں کر رہا تھا تو انہوں نے اس سے شراب کی بو محسوس کی تو انہوں نے فرمایا: کیا تم شراب پیتے ہو اور قرآن کی تکذیب کرتے ہو؟ پس انہوں نے اس پر حد قائم کی۔متفق علیہ۔علقمہ ؓ بیان کرتے ہیں،ہم حمص (ملک شام) میں تھے،تو ابن مسعود ؓ نے سورۂ یوسف تلاوت فرمائی تو کسی آدمی نے کہا: اس طرح تو نازل نہیں ہوئی،تو عبداللہ ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں پڑھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:’’تم نے بہت خوب پڑھا۔‘‘ اس اثنا میں کہ وہ شخص ان سے باتیں کر رہا تھا تو انہوں نے اس سے شراب کی بو محسوس کی تو انہوں نے فرمایا: کیا تم شراب پیتے ہو اور قرآن کی تکذیب کرتے ہو؟ پس انہوں نے اس پر حد قائم کی۔متفق علیہ۔