Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2248 (مشکوۃ المصابیح)

[2248] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (1498) والترمذي (3562 وقال: حسن صحیح) ٭ فیہ عاصم بن عبید اللہ: ضعیف، ضعفہ جمھور المحدثین و تحقیقھم ھو الراجح .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: ((أَشْرِكْنَا يَا أُخَيُّ فِي دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا)) . فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِہَا الدُّنْيَا. رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَانْتَہَتْ رِوَايَتُہُ عِنْدَ قَوْلِہِ ((لَا تنسنا))

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے عمرہ کے لیے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اجازت عطا کی اور فرمایا:’’پیارے بھائی! ہمیں اپنی دعا میں یاد رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی بات فرمائی جس کے بدلے میں پوری دنیا کا حصول میرے لیے باعث مسرت نہیں۔ابوداؤد،ترمذی۔اور امام ترمذی کی روایت ((ولا تنسنا)) کے الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ ابوداؤد (۱۴۹۸) و الترمذی (۳۵۶۲)۔