Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2249 (مشکوۃ المصابیح)

[2249] إسنادہ حسن، رواہ الترمذي (3598 و قال: ھذا حدیث حسن) [و ابن ماجہ (1752) و صححہ ابن خزیمۃ (1901) و ابن حبان (الموارد: 2407۔ 2408)]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُہُمْ: الصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُہَا اللہُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَہَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بعد حِين . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تین آدمیوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے،روزہ دار جب وہ افطار کے وقت دعا کرتا ہے،عادل بادشاہ اور دعائے مظلوم،اللہ اس (دعا) کو بادلوں کے اوپر اٹھا لیتا ہے،اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور رب فرماتا ہے: میری عزت کی قسم! میں ضرور تمہاری مدد کروں گا خواہ کچھ دیر سے ہو۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ الترمذی (۳۵۹۸)۔و ابن ماجہ (۱۷۵۳) و صحیحہ ابن خزیمہ (۱۹۰۱) و ابن حبان (۲۴۰۷،۲۴۰۸)۔