Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2256 (مشکوۃ المصابیح)

[2256] حسن، رواہ أبو داود (1489۔ 1490)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوِہِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ وَالِابْتِہَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: والابتہالُ ہَكَذَا وَرَفَعَ يَدَيْہِ وَجَعَلَ ظُہُورَہُمَا مِمَّا يَلِي وَجْہَہُ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُ

عکرمہ ؒ ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں،دعا (کا ادب) یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ کندھوں یا تقریباً کندھوں کے برابر اٹھاؤ،طلبِ مغفرت (کا ادب) یہ ہے کہ تم ایک انگلی (انگشت شہادت) کے ساتھ اشارہ کرو اور تضرع عاجزی یہ ہے تم اپنے دونوں ہاتھ دراز کر دو۔اور ایک روایت میں ہے،فرمایا: تضرع و عاجزی اس طرح ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھ اس قدر بلند کیے اور ہاتھوں کی پشت کو اپنے چہرے کی طرف کیا۔حسن،رواہ ابوداؤد (۱۴۸۹،۱۴۹۰)۔