Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2286 (مشکوۃ المصابیح)
[2286] إسنادہ ضعیف جدًا، رواہ البیھقي فی الدعوات الکبیر (15/1 ح 19) [و شعب الإیمان:522، نسخۃ محققۃ: 519] ٭ فیہ سعید بن سنان أبو مھدي الحنفي: متروک .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ كَانَ يَقُولُ: ((لِكُلِّ شَيْءٍ صِقَالَةٌ وَصِقَالَةُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللہِ وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجَی مِنْ عَذَابِ اللہِ مِنْ ذِكْرِ اللہِ)) قَالُوا: وَلَا الْجِہَادُ فِي سَبِيلِ اللہِ؟ قَالَ: ((وَلَا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِہِ حَتَّی يَنْقَطِعَ)) . رَوَاہُ الْبَيْہَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
عبداللہ بن عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے:’’ہر چیز کے لئے ایک صفائی کرنے والی چیز ہوتی ہے،جبکہ دلوں کی صفائی کرنے والی چیز اللہ کا ذکر ہے،اور اللہ کے ذکر سے بڑھ کر،اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی چیز نہیں۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا،اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں،اگرچہ وہ اپنی تلوار اس قدر چلائے کہ وہ ٹوٹ جائے۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا،رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۵ ح ۱۹) و شعب الایمان (۵۲۲،۵۱۹)۔