Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2303 (مشکوۃ المصابیح)
[2303] متفق علیہ، رواہ البخاري (6384) و مسلم (2704/44)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْہَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((يَا أَيُّہَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا وَہُوَ مَعَكُمْ وَالَّذِي تَدْعُونَہُ أَقْرَبُ إِلَی أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِہِ)) قَالَ أَبُو مُوسَی: وَأَنَا خَلْفَہُ أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ فِي نَفْسِي فَقَالَ: ((يَا عَبْدَ اللہِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَی كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟)) فَقُلْتُ: بَلَی يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ))
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں،ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر پڑھنے لگے،جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’لوگو! اپنے آپ پر آسانی کرو،کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم تو سننے دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے،اور جس ذات کو تم پکارتے ہو وہ تو تمہاری سواری کی گردن سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے۔‘‘ ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں،میں آپ کے پیچھے اپنے دل میں ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) پڑھ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کے متعلق بتاؤں؟‘‘ میں نےعرض کیا،کیوں نہیں،اللہ کے رسول! ضرور بتائیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) ’’گناہ سے بچنا اورنیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے۔‘‘ متفق علیہ،رواہ البخاری (۶۳۸۴) و مسلم