Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2315 (مشکوۃ المصابیح)

[2315] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (3462) ٭ عبد الرحمٰن بن إسحاق الکوفي ضعیف: ضعفہ الجمھور و حدیث أحمد (418/5 ح 23948) یغني عنہ و سندہ حسن.

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَقِيتُ إِبْرَاہِيمَ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْہُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ وَأَنَّہَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَہَا سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَكْبَرُ . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’شب معراج ابراہیم ؑ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا:’’محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم)! میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی ہے اور اس کا پانی شیریں ہے لیکن وہ ایک صاف میدان ہے،اور ((سُبْحَانَ اللہِ وَ الْحَمْدُلِلہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر)) کہنا اس میں درخت لگانا ہے۔‘‘ ترمذی،اور فرمایا: یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن غریب ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی (۳۴۶۲) و احمد (۵ / ۴۱۸ ح ۲۳۹۴۸)۔