Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2347 (مشکوۃ المصابیح)

[2347] إسنادہ حسن، رواہ أحمد (323/2 ح 8275، 362/2 ح 8734) [و أبو داود (4901)] ٭ انظر نیل المقصود (مخطوط 1033/3) و تفسیر ابن کثیر (265/2)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ رَجُلَيْنِ كَانَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَحَابَّيْنِ أَحدہمَا مُجْتَہد لِلْعِبَادَةِ وَالْآخَرُ يَقُولُ: مُذْنِبٌ فَجَعَلَ يَقُولُ: أَقْصِرْ عَمَّا أَنْتَ فِيہِ فَيَقُولُ خَلِّنِي وَرَبِّي حَتَّی وَجَدَہُ يَوْمًا عَلَی ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَہُ فَقَالَ: أَقْصِرْ فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّيَ أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللہِ لَا يَغْفِرُ اللہُ لَكَ أَبَدًا وَلَا يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ فَبَعَثَ اللہُ إِلَيْہِمَا مَلَكًا فَقَبَضَ أَرْوَاحَہُمَا فَاجْتَمَعَا عِنْدَہُ فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي وَقَالَ لِلْآخَرِ: أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَحْظِرَ عَلَی عَبْدِي رَحْمَتِي؟ فَقَالَ: لَا يَا رَبِّ قَالَ: اذْہَبُوا بِہِ إِلَی النَّار . رَوَاہُ أَحْمد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بنی اسرائیل کے دو آدمی ایک دوسرے کے دوست تھے،ان میں سے ایک انتہائی عبادت گزار تھا جبکہ دوسرا کہتا تھا: میں گناہ گار ہوں،یہ اسے کہتا: اپنی روش سے باز آ جاؤ،تو وہ کہتا: میرا معاملہ میرے رب پر چھوڑ دو،حتیٰ کہ اس نے ایک روز اسے گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس نے اسے بہت برا سمجھتے ہوئے کہا: باز آ جاؤ،اس نے کہا: مجھے میرے رب پر چھوڑ دو،کیا تم مجھ پر نگران بنا کر بھیجے گئے ہو؟ تو اس (عبادت گزار) نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تمہیں کبھی معاف کرے گا نہ کبھی تمہیں جنت میں داخل کرے گا،پس اللہ نے ان دونوں کی طرف فرشتہ بھیجا تو اس نے ان دونوں کی روحیں قبض کر لیں،اور وہ دونوں اس کے پاس اکٹھے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے گناہ گار شخص سے فرمایا: میری رحمت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا،اور دوسرے سے فرمایا: کیا تم طاقت رکھتے ہو کہ تم میری رحمت کو میرے بندے سے روک دو؟ وہ عرض کرتا ہے،نہیں،میرے رب! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسے جہنم میں لے جاؤ۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ احمد (۲ / ۳۲۳ ح ۸۲۷۵،۲ / ۳۶۲ ح ۸۷۳۴) و ابوداؤد (۴۹۰۱) و تفسیر ابن کثیر (۲ / ۲۶۵)۔