Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2363 (مشکوۃ المصابیح)

[2363] سندہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ (4250) والبیھقي في شعب الإیمان (7040) و البغوي في شرح السنۃ (91/5۔ 92 بعد ح 1307) [و ابن ماجہ (4252) و صححہ الحاکم (243/4) ووافقہ الذہبي بلفظ ’’النوم توبۃ‘‘ وھو حدیث حسن .] ٭ السند منقطع، أبو عبیدۃ بن عبد اللہ بن مسعود لم یسمع من أبیہ و رواہ البغوي في شرح السنۃ (91/5 ح 1307) مرفوعًا: ’’النوم توبۃ‘‘ وھو حدیث حسن .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((التَّائِبَ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہُ)) . رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہْ وَالْبَيْہَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ تَفَرَّدَ بِہِ النَّہْرَانَيُّ وَہُوَ مَجْہُولٌ. وَفِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) رَوَی عَنْہُ مَوْقُوفًا قَالَ: النَّدَمُ تَوْبَةٌ والتَّائبُ كمن لَا ذَنْبَ لَہُ

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘ ابن ماجہ،بیہقی فی شعب الایمان،اور فرمایا: اس میں نہرانی کا تفرد ہے،اور وہ مجہول ہے۔جبکہ شرح السنہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے موقوف روایت ہے،فرمایا: ندامت سے توبہ مراد ہے،اور توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔سندہ ضعیف،رواہ ابن ماجہ و البیھقی۔