Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2374 (مشکوۃ المصابیح)

[2374] متفق علیہ، رواہ البخاري (6491) و مسلم (131/207)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ اللہَ كَتَبَ الحسناتِ والسيِّئاتِ: فَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْہَا كَتَبَہَا اللہُ لہُ عندَہُ حَسَنَة كَامِلَة فَإِن ہم بعملہا كَتَبَہَا اللہُ لَہُ عِنْدَہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ ہَمَّ بسيئة فَلَمْ يَعْمَلْہَا كَتَبَہَا اللہُ عِنْدَہُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِن ہُوَ ہم بعملہا كتبہَا اللہ لَہُ سَيِّئَة وَاحِدَة

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بے شک اللہ نے نیکیاں اور برائیاں لکھی ہیں،جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اسے کیا نہیں تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے،اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں دس گنا سے سات سو گنا اور اس سے بھی بڑھا کر لکھ لیتا ہے،اور جو شخص برائی کرنے کا ارادہ کرے لیکن اسے کرے نہیں تو اللہ اسے اپنے پاس اس کے حق میں ایک کامل نیکی لکھ لیتا ہے،لیکن اگر وہ اس (برائی) کا ارادہ کرے اور اسے کر گزرے تو اللہ اسے اس کے حق میں ایک ہی برائی لکھتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔