Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2385 (مشکوۃ المصابیح)

[2385] متفق علیہ، رواہ البخاري (7488) و مسلم (2710/58)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِہِ نَامَ عَلَی شِقِّہِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ: ((اللہُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ وَوَجَّہْتُ وَجْہِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَہْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ)) . وَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ قَالَہُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَيْلَتِہِ مَاتَ عَلَی الْفِطْرَةِ)) وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِرَجُلٍ: يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَی فِرَاشِكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَی شِقِّكَ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قُلِ: اللہُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ إِلَی قَوْلِہِ: أَرْسَلْتَ وَقَالَ: ((فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ عَلَی الْفِطْرَةِ وإِن أصبحتَ أصبتَ خيرا))

براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں،جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بستر پر آتے تو آپ دائیں کروٹ لیٹتے،پھر یہ دعا پڑھتے:’’اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی،اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر دیا،اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی۔اور یہ سب کچھ تیرا شوق رکھتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے کیا،تیرے سوا کوئی پناہ گاہ ہے نہ مقام نجات،میں تیری کتاب پر ایمان لایا جسے تو نےنازل فرمایا،اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جو شخص یہ کلمات پڑھے اور پھر اسی رات فوت ہو جائے تو وہ فطرت (یعنی اسلام) پر فوت ہو گا۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے: راوی بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی آدمی سے فرمایا:’’اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر لیٹنا چاہو تو نماز کا سا وضو کرو۔پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹو،پھر یہ دعا پڑھو: اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی ...... یعنی مکمل دعا پڑھی۔‘‘ فرمایا:’’اگر تم اسی رات فوت ہو گئے تو تم فطرت (یعنی اسلام) پر فوت ہو گے اور اگر صبح کی تو تم خیر و بھلائی پاؤ گے۔‘‘ متفق علیہ۔