Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2387 (مشکوۃ المصابیح)
[2387] متفق علیہ، رواہ البخاري (5361) و مسلم (2727/80)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن عَليّ: أَن فَاطِمَة أَنْت النَّبِيَّ ﷺ تَشْكُو إِلَيْہِ مَا تَلْقَی فِي يَدِہَا مِنَ الرَّحَی وَبَلَغَہَا أَنَّہُ جَاءَہُ رَقِيقٌ فَلَمْ تُصَادِفْہُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْہُ عَائِشَةُ قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَہَبْنَا نَقُومُ فَقَالَ: عَلَی مَكَانِكُمَا فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَہَا حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِہِ عَلَی بَطْنِي فَقَالَ: ((أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَی خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَہُوَ خير لَكمَا من خَادِم))
علی ؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس تکلیف کی شکایت لے کر گئیں جو انہیں چکی پیسنے سے ہوئی تھی،اور انہیں پتہ چلا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے ہیں،لیکن ان کی آپ سے ملاقات نہ ہو سکی تو انہوں نے عائشہ ؓ سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا،جب آپ تشریف لائے تو عائشہ ؓ نے آپ کو بتایا،علی ؓ بیان کرتے ہیں،آپ ایسے وقت میں ہمارے پاس تشریف لائے کہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے،ہم اٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔‘‘ پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں اس چیز سے،جس کا تم نے سوال کیا ہے،بہتر چیز بتاؤں؟ جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ ((سبحان اللہ)) تینتیس مرتبہ ((الحمدللہ)) اور چونتیس مرتبہ ((اللہ اکبر)) پڑھ لیا کرو،وہ تمہارے لئے،خادم کے مل جانے سے بہتر ہے۔‘‘ متفق علیہ۔