Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2394 (مشکوۃ المصابیح)
[2394] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (5076) ٭ سعید بن بشیر النجاري: مجھول، و محمد بن عبد الرحمٰن بن البیلماني: ضعیف .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: (فَسُبْحَانَ اللہِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ولہُ الحمدُ فِي السمواتِ والأرضِ وعشيَّاً وحينَ تُظہرون) إِلی قَوْلہ: (وَكَذَلِكَ تُخْرَجونَ) أَدْرَكَ مَا فَاتَہُ فِي يَوْمِہِ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَہُنَّ حِينَ يُمْسِي أَدْرَكَ مَا فَاتَہُ فِي ليلتِہِ . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص صبح کے وقت یہ آیات پڑھے: (فَسُبْحَانَ اللہِ ........ وَکَذَالِکَ تُخْرَجُوْنَ) [۳۰/ الروم: ۱۷۔۱۹] ’’پس تم اللہ کی تسبیح بیان کرو جب شام ہو اور جس وقت صبح ہو،اور آسمانوں اور زمین میں اس کی حمد ہے،اور اسکی تسبیح کرو تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو،وہ جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے،اور بے جان کو جاندار سے باہر لاتا ہے،اور زمین کو اس کے مردہ اور خشک ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور اسی طرح تم بھی اسی کی طرف نکالے جاؤ گے۔‘‘ تو اس روز جو اس سے نیک عمل چھوٹ گیا ہو گا وہ ان کلمات کے کہنے سے پا لے گا،اور جو شخص یہ کلمات شام کے وقت کہے گا تو اس سے جو عمل اس رات میں رہ جائے گا تو وہ ان کلمات کے ذریعے ان کا تدراک کر لے گا۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ ابوداؤد۔