Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2420 (مشکوۃ المصابیح)
[2420] رواہ مسلم (425 /1342)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ إِذَا اسْتَوَی عَلَی بَعِيرِہِ خَارِجًا إِلَی السَّفَرِ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا كُنَّا لَہُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ) اللہُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا ہَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَی اللہُمَّ ہَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا ہَذَا وَاطْوِ لَنَا بُعْدَہُ اللہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَہْلِ وَالْمَالِ اللہُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ والأہلِ . وإِذا رجعَ قالَہنَّ وزادَ فيہِنَّ: ((آيِبُونَ تائِبُونَ عابِدُونَ لربِّنا حامدون)) . رَوَاہُ مُسلم
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر پر روانہ ہونے کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے تو آپ تین بار اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے:’’پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اسے مسخر کر دیا جبکہ ہم اس پر طاقت و قدرت نہیں رکھتے تھے۔اے اللہ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی و تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے،اے اللہ! یہ سفر ہم پر آسان کر دے اور اس کی دوری (لمبی مسافت کو ہمارے لئے) لپیٹ (کر قریب) دے،اے اللہ! اس سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں نائب ہے،اے اللہ! میں سفر کی شدت و مشقت،تکلیف دہ منظر اور اہل و مال میں بری واپسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس کے ساتھ یہ اضافہ فرماتے:’’واپس لوٹنے والے ہیں،توبہ کرنے والے ہیں،عبادت کرنے والے ہیں،اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔‘‘ رواہ مسلم۔