Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2432 (مشکوۃ المصابیح)
[2432] حسن، رواہ الترمذي (3527)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلًا يَدْعُو يَقُولُ: اللہُمَّ إِني أسألكَ تمامَ النعمةِ فَقَالَ: ((أيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟)) قَالَ: دَعْوَةٌ أَرْجُو بِہَا خَيْرًا فَقَالَ: ((إِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ)) . وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ: ((قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ)) . وَسَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلًا وَہُوَ يَقُولُ: اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ فَقَالَ: ((سَأَلْتَ اللہَ الْبَلَاءَ فَاسْأَلْہُ الْعَافِيَةَ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا:’’اے اللہ! میں تجھ سے اتمام نعمت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کون سی چیز اتمام نعمت ہے؟‘‘ اس نے کہا: دعا جس کے ذریعے میں خیر (مال کثیر) کی امید کرتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اتمام نعمت تو جنت میں داخلہ اور جہنم سے خلاصی ہے۔‘‘ اور آپ نے کسی دوسرے آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا:’’اے جلال و اکرام والے!‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تمہاری دعا قبول ہو گئی،اب سوال کرو۔‘‘ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا:’’اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے،اس سے عافیت کا سوال کرو۔‘‘ حسن،رواہ الترمذی۔