Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2449 (مشکوۃ المصابیح)

[2449] إسنادہ حسن، رواہ الترمذي (3563 وقال: حسن غریب) والبیھقي فی الدعوات الکبیر (134/1 ح 177) [وصححہ الحاکم (538/1) ووافقہ الذہبي] حدیث: إذا سمعتم نباخ الکلاب، یأتي (4302)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عليّ: أَنَّہُ جَاءَہُ مُكَاتَبٌ فَقَالَ: إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ كتابي فَأَعِنِّي قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيہِنَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلٍ كَبِيرٍ دَيْنًا أَدَّاہُ اللہُ عَنْكَ. قُلْ: ((اللہُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْہَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ)) فِي بَابِ ((تَغْطِيَةِ الْأَوَانِي)) إِن شَاءَ اللہ تَعَالَی

علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب ان کے پاس آیا تو اس نے کہا: میں اپنی آزادی کے لئے طے شدہ رقم ادا کرنے سے عاجز ہوں لہذا آپ ؓ میری مدد فرمائیں،انہوں نے فرمایا: کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سکھائے تھے،اگر تجھ پر کسی بڑے پہاڑ کے برابر قرض ہو گا تو اللہ اسے تجھ سے ادا کر دے گا،کہو:’’اے اللہ! تو اپنی حلال کردہ چیز کے ذریعے اپنی حرام کردہ چیز سے مجھے کافی ہو جا اور اپنے فضل کے ذریعے اپنے علاوہ مجھے سب سے بے نیاز کر دے۔‘‘ ہم جابر ؓ سے مروی حدیث ((اِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلَابِ)) باب تغطیۃ الاوانی میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔اسنادہ حسن،رواہ الترمذی و البیھقی۔