Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2490 (مشکوۃ المصابیح)
[2490] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (3512) و ابن ماجہ (3848) ٭ سلمۃ بن وردان ضعیف: ضعفہ الجمھور .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ)) ثُمَّ أَتَاہُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَاہُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: ((فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات (باہم درگزر کرنا) مانگو،پھر وہ دوسرے روز حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا،اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح فرمایا،پھر تیسرے روز آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پھر ویسے ہی فرمایا،اور فرمایا:’’جب تجھے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات مل گئی تو تُو کامیاب ہو گیا۔‘‘ ترمذی۔ابن ماجہ۔اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے اور اس کی سند غریب ہے۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔