Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2521 (مشکوۃ المصابیح)

[2521] ضعیف، رواہ الترمذي (812) ٭ الحارث الأعور ضعیف جدًا و للحدیث شواھد ضعیفۃ عند البیھقي (334/4) وغیرہ .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُہُ إِلَی بَيْتِ اللہِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْہِ أَنْ يَمُوتَ يَہُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذَلِكَ أَنَّ اللہَ تَبَارَكَ وَتَعَالَی يَقُولُ: (وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حَجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِليہِ سَبِيلا) رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي إِسْنَادِہِ مَقَالٌ وَہِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللہِ مَجْہُولٌ والْحَارث يضعف فِي الحَدِيث

علی ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جس شخص کے پاس بیت اللہ تک پہنچنے کے لئے زادراہ اور سواری ہو وہ پھر بھی حج نہ کرے تو پھر اس پر کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر فوت ہو یا نصرانی،اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس پر بیت اللہ کا حج کرنا واجب ہے۔‘‘ ترمذی۔اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد پر کلام کیا گیا ہے،جبکہ ہلال بن عبداللہ مجہول ہے اور حارث کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ضعیف،رواہ الترمذی۔