Mishkaat ul Masabeeh Hadith 2527 (مشکوۃ المصابیح)

[2527] إسنادہ ضعیف، رواہ البغوي في شرح السنۃ (14/7 ح 1847) و ابن ماجہ (2896) ٭ إبراہیم بن یزید الخوزي ضعیف و انظر الحدیث السابق (2526)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ: مَا الْحَاج؟ فَقَالَ: ((الشعث النَّفْل)) . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْعَجُّ وَالثَّجُّ)) . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: ((زَادٌ وَرَاحِلَةٌ)) رَوَاہُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ. وَرَوَی ابْنُ مَاجَہْ فِي سُنَنِہِ إِلَّا أَنَّہُ لَمْ يذكر الْفَصْل الْأَخير

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا: حاجی کی صفت کیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’پراگندہ،بکھرے ہوئے بال اور میل کچیل۔‘‘ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا،اللہ کے رسول! کون سا حج افضل ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بلند آواز سے تکبیریں کہنا اور قربانی کا خون بہانا۔‘‘ پھر ایک اور کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا،راستے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’زادراہ اور سواری۔‘‘ شرح السنہ،اور امام ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا لیکن انہوں نے آخری بات (راستے سے کیا مراد ہے؟) ذکر نہیں کی۔اسنادہ ضعیف،رواہ البغوی شرح السنہ و ابن ماجہ۔