Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3019 (مشکوۃ المصابیح)

[3019] متفق علیہ، رواہ البخاري (2586) و مسلم (1623/13)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاہُ أَتَی بِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي ہَذَا غُلَامًا فَقَالَ: ((أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَہُ؟)) قَالَ: لَا قَالَ: ((فَأَرْجِعْہُ)) . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّہُ قَالَ: ((أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟)) قَالَ: بَلَی قَالَ: ((فَلَا إِذن)) . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّہُ قَالَ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَی حَتَّی تشہد رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَتَی رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْہِدَكَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ: ((أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلِدِكَ مِثْلَ ہَذَا؟)) قَالَ: لَا قَالَ: ((فَاتَّقُوا اللہَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ)) . قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَہُ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّہُ قَالَ: ((لَا أشہد علی جور))

نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا،میں نے اپنے بیٹے کو ایک غلام ہبہ کیا ہے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو (برابر) اس طرح کا ہبہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،نہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اسے واپس لے لو۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تم پسند کرتے ہو کہ وہ سارے تیرے ساتھ مساوی حسن سلوک کریں؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تو پھر تم ایسے کیوں نہیں کرتے؟‘‘ ایک روایت میں ہے،انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ ؓ (میری والدہ) نے کہا: میں راضی نہیں حتی کہ تم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گواہ بنا لو۔وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو عرض کیا: میں نے عمرہ بنت رواحہ ؓ سے اپنے بیٹے کو ایک عطیہ دیا ہے اور اللہ کے رسول! اس نے کہا ہے کہ میں آپ کو گواہ بناؤں۔آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تم نے اپنی باقی اولاد کو بھی اسی طرح کا عطیہ دیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا نہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،وہ واپس آئے اور اپنا عطیہ واپس لے لیا۔اور ایک دوسری روایت میں ہے: کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔‘‘ متفق علیہ۔