Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3108 (مشکوۃ المصابیح)

[3108] إسنادہ ضعیف، رواہ الدارمي (146/2 ح 2221، نسخۃ محققۃ: 2261) ٭ و أبو إسحاق عنعن و عبد اللہ بن حلام: لا یعرف، مجھول الحال و ثقہ ابن حبان وحدہ و حدیث مسلم (1403) یغني عنہ و فیہ ’’أتی زینب‘‘ بدل ’’سودۃ‘‘ و ھو الصحیح .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: رَأَی رَسُولَ اللہِ ﷺ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْہُ فَأَتَی سَوْدَةَ وَہِيَ تَصْنَعُ طِيبًا وَعِنْدَہَا نِسَاءٌ فَأَخْلَيْنَہُ فَقَضَی حَاجَتَہُ ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّمَا رَجُلٍ رَأَی امْرَأَةً تُعْجِبُہُ فَلْيَقُمْ إِلَی أَہْلِہِ فَإِنَّ مَعَہَا مثل الَّذِي مَعہَا)) . رَوَاہُ الدَّارمِيّ

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی عورت کو دیکھا تو وہ آپ کو اچھی لگی،آپ سودہ ؓ کے پاس تشریف لائے،وہ اس وقت خوشبو تیار کر رہی تھیں اور ان کے پاس کچھ عورتیں تھیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں علیحدہ کیا اور اپنی حاجت پوری کی پھر فرمایا:’’کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے خوش لگے تو وہ آدمی اپنی اہلیہ کے پاس آئے کیونکہ اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اُس عورت کے پاس ہے۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ الدارمی۔