Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3312 (مشکوۃ المصابیح)

[3312] متفق علیہ، رواہ البخاري (2745، 4303) و مسلم (1457/36)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَہِدَ إِلَی أَخِيہِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْہُ إِلَيْكَ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَہُ سَعْدٌ فَقَالَ: إِنَّہُ ابْنُ أَخِي وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي فَتَسَاوَقَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أَخِي كَانَ عَہِدَ إِلَيَّ فِيہِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْن وليدة أبي وُلِدَ علی فرَاشہ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((ہُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاہِرِ الْحَجَرُ)) ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: ((احْتَجِبِي مِنْہُ)) لِمَا رَأَی مِنْ شَبَہِہِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآہَا حَتَّی لَقِيَ اللہَ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ((ہُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمَعَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ وُلِدَ عَلَی فِرَاشِ أَبِيہِ))

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص ؓ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرا ہے۔تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔چنانچہ جب فتح مکہ کا سال ہوا تو سعد ؓ نے اسے لے لیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے۔اور عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے،وہ دونوں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔سعد ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی نے اس (بچے) کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی،اور عبد بن زمعہ نے عرض کیا،یہ میرا بھائی ہے اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’عبد بن زمعہ بچہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو،جبکہ زانی کے لیے پتھر (یعنی رجم) ہے۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے فرمایا:’’اس سے پردہ کیا کرو۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ تب فرمایا جب آپ نے اس لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھی۔اس کے بعد اس نے سودہ ؓ کو تا دم زیست نہیں دیکھا۔اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’عبد بن زمعہ! وہ تمہارا بھائی ہے،اس لیے کہ وہ اس کے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔متفق علیہ۔