Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3375 (مشکوۃ المصابیح)
[3375] إسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ (3691) [والترمذي: 1946] ٭ فیہ فرقد ضعیف و تقدم طرفہ (3358)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ)) . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ ہَذِہِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَی؟ قَالَ: ((نَعَمْ فَأَكْرِمُوہُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوہُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ)) . قَالُوا: فَمَا تنفعنا الدُّنْيَا؟ قَالَ: ((فَرَسٌ تَرْتَبِطُہُ تُقَاتِلُ عَلَيْہِ فِي سَبِيلِ اللہِ وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّی فَہُوَ أَخُوكَ)) . رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہْ
ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’(مملوکوں سے) بُرا سلوک کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت میں تمام امتوں سے زیادہ مملوک اور یتیم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ہاں،تم ان کی اپنی اولاد کی طرح تکریم کرو اور جو خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ہمیں دنیا میں کون سی چیز فائدہ دے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’گھوڑا جسے تو تیار رکھے تاکہ تو اس پر اللہ کی راہ میں جہاد کرے،اور مملوک جو تجھے کفایت کرے،جب وہ نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے۔‘‘ اسنادہ ضعیف،رواہ ابن ماجہ۔