Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3698 (مشکوۃ المصابیح)

[3698] حسن، رواہ البغوي في شرح السنۃ (59/10۔ 60 ح 2468) و أحمد (352/2) [و صححہ الحاکم (91/4 ح 7016) وابن حبان (الموارد: 1559 و سندہ حسن) و لہ طریق آخر عند الحاکم (191/4) و صححہ ووافقہ الذہبي و سندہ حسن]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ نَوَاصِيَہُمْ مُعَلَّقَةٌ بِالثُّرَيَّا يَتَجَلْجَلُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَأَنَّہُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا)) . رَوَاہُ فِي ((شَرْحِ السُّنَّةِ)) وَرَوَاہُ أَحْمد وَفِي رِوَايَتہ: ((أنَّ ذوائِبَہُم كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ولَمْ يَكُونُوا عُمِّلوا علی شَيْء))

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’امراء کے لیے ویل (ہلاکت و تباہی یا جہنم کی ایک وادی) ہے۔ناظمین کے لیے ویل ہے اور امانت رکھنے والوں کے لیے ہلاکت ہے،روزِ قیامت لوگ آرزو کریں گے کہ ان کی پیشانیاں ثریا کے ساتھ معلق ہوتیں وہ زمین و آسمان کے درمیان حرکت کرتے رہتے لیکن وہ کسی کام کے ذمہ داری و سرپرستی قبول نہ کرتے۔‘‘ اور امام احمد نے بھی اسے روایت کیا ہے،ان کی روایت میں ہے کہ ان کے بال ثریا کے ساتھ معلق ہوتے اور وہ زمین و آسمان کے درمیان حرکت کرتے رہتے لیکن انہیں کسی کام کی ذمہ داری نہ سونپی جاتی۔‘‘ حسن،رواہ فی شرح السنہ و احمد۔