Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3775 (مشکوۃ المصابیح)
[3775] صحیح، رواہ أبو داود (3621) و ابن ماجہ (2322) [و البخاري (2357) و مسلم (138)]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن الأشعثِ بنِ قيسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَہُودِ أرضٌ فحَجَدني فَقَدَّمْتُہُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: ((أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟)) قُلْتُ: لَا قَالَ لِلْيَہُودِيِّ: ((احْلِفْ)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ إِذَنْ يَحْلِفَ وَيَذْہَبَ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی: (إِنَّ الَّذِينَ يشترونَ بعہدِ اللہِ وأَيمانِہِم ثمنا قَلِيلا) الْآيَة. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَہ
اشعث بن قیس ؓ بیان کرتے ہیں،میری اور ایک یہودی کی کچھ مشترکہ زمین تھی،اس نے میرے حصے کا انکار کر دیا میں اپنا مقدمہ لے کر اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تمہارے پاس کوئی گواہی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا،نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی سے فرمایا:’’قسم اٹھاؤ۔‘‘ میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! وہ تو قسم اٹھا لے گا اور میری زمین غصب کر لے گا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:’’بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلہ میں تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں۔‘‘ صحیح،رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔