Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3898 (مشکوۃ المصابیح)
[3898] رواہ مسلم (1728/18)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِذ جَاءَہُ رَجُلٌ عَلَی رَاحِلَةٍ فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ كَانَ مَعَہُ فَضْلُ ظَہْرٌ فَلْيَعُدْ بِہِ عَلَی مَنْ لَا ظَہْرَ لَہُ وَمَنْ كَانَ لَہُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِہِ عَلَی مَنْ لَا زَادَ لَہُ)) قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ حَتَّی رَأَيْنَا أَنَّہُ لَا حَقَّ لأحدٍ منا فِي فضل. رَوَاہُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں،ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اس دوران اچانک ایک آدمی سواری پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جس شخص کے پاس زائد سواری ہو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس کوئی سواری نہیں،جس شخص کے پاس زاد سفر زیادہ ہو تو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس زاد راہ نہیں۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال کی بہت اصناف کا ذکر فرمایا،حتی کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے کسی شخص کو زائد چیز پر کوئی حق نہیں۔رواہ مسلم۔