Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4030 (مشکوۃ المصابیح)
[4030] متفق علیہ، رواہ البخاري (27) و مسلم (237 / 150)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: أَعْطَی رَسُولُ اللہِ ﷺ رَہْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فَتَرَكَ رَسُولُ اللہِ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم مِنْہُم رَجُلًا وَہُوَ أَعْجَبُہُمْ إِلَيَّ فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ وَاللہِ إِنِّي لَأُرَاہُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أوْ مُسلما)) ذكرَ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَأَجَابَہُ بِمِثْلِ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُہُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْہُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَی وَجْہِہِ)) . مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَہُمَا: قَالَ الزُّہْرِيُّ: فتری: أَن الْإِسْلَام الْكَلِمَة وَالْإِيمَان الْعَمَل الصَّالح
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جماعت کو کچھ دیا اور میں بیٹھا ہوا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا وہ مجھے ان میں سے زیادہ پسندیدہ تھا،چنانچہ میں کھڑا ہوا اور عرض کیا: فلاں شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بلکہ (میں اسے) مسلمان (سمجھتا ہوں)۔‘‘ سعد ؓ نے تین بار ایسے ہی عرض کیا،اور آپ نے انہیں ایسے ہی جواب ارشاد فرمایا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بے شک میں آدمی کو دیتا ہوں،جبکہ دوسرا شخص (جسے میں نہیں دیتا) اس کی نسبت مجھے زیادہ پیارا ہوتا ہے،اس اندیشے کے پیشِ نظر دیتا ہوں کہ وہ اپنے چہرے کے بل جہنم میں نہ ڈالا جائے۔‘‘ بخاری،مسلم۔متفق علیہ۔اور صحیحین کی روایت میں ہے،امام زہری ؒ نے فرمایا: ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کلمہ ہے جبکہ ایمان عمل صالح ہے۔