Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4049 (مشکوۃ المصابیح)
[4049] متفق علیہ، رواہ البخاري (2699) ومسلم (90/ 1783)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَی أَہْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوہُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّی قَاضَاہُمْ عَلَی أَنْ يَدْخُلَ يَعْنِي مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ يُقِيمُ بِہَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا: ہَذَا مَا قَاضَی عَلَيْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ. قَالُوا: لَا نُقِرُّ بِہَا فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَا منعناك وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ فَقَالَ: ((أَنَا رَسُولُ اللہِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ)) . ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: امْحُ: رَسُولَ اللہِ قَالَ: لَا وَاللہِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ: ہَذَا مَا قَاضَی عَلَيْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ: لَا يُدْخِلُ مَكَّةَ بِالسِّلَاحِ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْ أَہْلِہَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ يَتْبَعَہُ وَأَنْ لَا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِہِ أَحَدًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِہَا فَلَمَّا دَخَلَہَا وَمَضَی الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ: اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَی الْأَجَلُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالقعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو اہل مکہ نے انکار کر دیا کہ وہ آپ کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں حتی کہ آپ نے ان سے اس بات پر صلح کی کہ آپ آئندہ سال آئیں گے،اور وہاں تین روز قیام کریں گے،جب انہوں نے تحریر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ لکھوانا چاہا کہ یہ وہ بات ہے جس پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مصالحت کی،انہوں نے کہا: ہم اس کا اقرار نہیں کرتے،اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو نہ روکتے،لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں رسول اللہ ہوں اور میں محمدبن عبداللہ ہوں۔‘‘ پھر آپ نے علی ؓ سے فرمایا:’’لفظ رسول اللہ مٹا دیں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں آپ (کے نام) کو نہیں مٹاؤں گا۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قلم ہاتھ میں لیا جبکہ آپ بہتر طور پر نہیں لکھ سکتے تھے،آپ نے لکھا کہ یہ صلح نامہ محمد بن عبداللہ کی طرف سے ہے جب آپ مکہ میں داخل ہوں گے تو تلوار نیام میں رکھیں گے اور مکہ والوں میں سے اگر کوئی آدمی آپ کے ساتھ جانا چاہے تو آپ اسے اپنے ساتھ نہیں لے کر جائیں گے اور اگر آپ کے صحابہ میں سے کوئی قیام کرنا چاہے گا آپ اسے منع نہیں کریں گے،چنانچہ جب (اگلے سال) وہ (مکہ میں) آئے اور مدت قیام پوری ہو گئی تو وہ لوگ علی ؓ کے پاس آئے اور کہا: اپنے ساتھی سے کہو کہ مدت قیام پوری ہو چکی ہے لہذا یہاں سے چلے جائیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے۔متفق علیہ۔