Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4051 (مشکوۃ المصابیح)

[4051] رواہ البخاري (2730)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن ابْن عمر قَالَ: قَامَ عُمَرُ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ عَامَلَ يَہُودَ خَيْبَرَ عَلَی أَمْوَالِہِمْ وَقَالَ: ((نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللہُ)) . وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَہُمْ فَلَمَّا أَجْمَعَ عُمَرُ عَلَی ذَلِكَ أَتَاہُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الحُقَيقِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَی الْأَمْوَالِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: أَظْنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلُ رَسُولِ اللہِ ﷺ: ((كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ؟)) فَقَالَ: ہَذِہِ كَانَتْ ہُزَيْلَةً مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ فَقَالَ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللہِ فَأَجْلَاہُمْ عُمَرُ وَأَعْطَاہُمْ قِيمَةَ مَا كَانَ لَہُمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ. رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں،عمر ؓ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا تو فرمایا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودِ خیبر کو ان کے اموال پر برقرار رکھا اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ہم تمہیں برقرار رکھیں گے جب تک اللہ تمہیں برقرار رکھے گا۔‘‘ اور میں انہیں نکالنے کا ارادہ رکھتا ہوں،جب عمر ؓ نے انہیں نکالنے کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنی ابو الحقیق سے ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: امیر المومنین! کیا آپ ہمیں نکالتے ہیں جبکہ محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) نے ہمیں (اپنے گھروں میں) برقرار رکھا اور ہمیں اموال پر بھی کام کرنے دیا۔(اس پر) عمر ؓ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کو بھول گیا ہوں،تیری کیا حالت ہو گی جب تجھے خیبر سے نکال دیا جائے گا اور تیری جوان اونٹنی تیرے ساتھ دوڑے گی۔اس نے کہا: کہ ابو القاسم (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کی طرف سے مذاق تھا،عمر ؓ نے فرمایا: اللہ کے دشمن! تم جھوٹ کہہ رہے ہو،عمر ؓ نے انہیں جلا وطن کر دیا،اور انہیں ان کے پھلوں کے بدلے،مال،اونٹ،پالان اور رسیاں وغیرہ دیں۔رواہ البخاری۔