Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4054 (مشکوۃ المصابیح)

[4054] متفق علیہ، رواہ البخاري (3152) و مسلم (1551/6)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا أَجْلَی الْيَہُودَ وَالنَّصَارَی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَمَّا ظَہَرَ عَلَی أَہْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَہُودَ مِنْہَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ لَمَّا ظُہِرَ عَلَيْہَا لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَسَأَلَ الْيَہُودُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَنْ يَتْرُكَہُمْ عَلَی أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ وَلَہُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((نُقِرُّكُمْ علی ذَلِك مَا شِئْنَا)) فَأُقِرُّوا حَتَّی أَجْلَاہُمْ عُمَرُ فِي إِمارتہ إِلی تَيماءَ وأريحاء

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے یہود و نصاریٰ کو سرزمینِ حجاز سے جلا وطن کر دیا،اور جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اہل خیبر پر غالب آئے تو آپ نے یہود و نصاریٰ کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ فرمایا تھا،اور جب آپ اس سرزمین پر غالب آئے تھے تو وہ زمین اللہ،اس کے رسول اور مسلمانوں کے لیے تھی،یہود نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے درخواست کی کہ وہ ان کی زمینوں کو چھوڑ دیں تا کہ وہ (یہود) کھیتی باڑی کریں اور پیداوار کا نصف ان کے لیے ہو،تب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جتنا عرصہ ہم چاہیں گے تم کو رکھیں گے۔‘‘ انہیں رکھا گیا حتی کہ عمر ؓ نے اپنی امارت میں انہیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔متفق علیہ۔