Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4061 (مشکوۃ المصابیح)

[4061] إسنادہ صحیح، رواہ البغوي في شرح السنۃ (11/ 138 ح 2740) [و عبد الرزاق فی المصنف (20040)]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنہُ: (إِنَّما الصَّدَقاتُ للفقراءِ والمساكينِ) حَتَّی بَلَغَ (عَلِيمٌ حَكِيمٌ) فَقَالَ: ہَذِہِ لِہَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ (وَاعْلَمُوا أَنَّ مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شيءٍ فإنَّ للہِ خُمُسَہ وللرَّسولِ) حَتَّی بلغَ (وابنِ السَّبِيلِ) ثُمَّ قَالَ: ہَذِہِ لِہَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ (مَا أَفَاءَ اللہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقری) حَتَّی بلغَ (للفقراءِ) ثمَّ قرأَ (والذينَ جاؤوا منْ بعدِہِم) ثُمَّ قَالَ: ہَذِہِ اسْتَوْعَبَتِ الْمُسْلِمِينَ عَامَّةً فَلَئِنْ عِشْتُ فَلَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ وَہُوَ بِسَرْوِ حِمْيَرَ نَصِيبُہُ مِنْہَا لَمْ يَعْرَقْ فِيہَا جَبِينُہُ. رَوَاہُ فِي شرح السّنة

مالک بن اوس بن حدثان ؓ بیان کرتے ہیں،عمر بن خطاب ؓ نے یہ آیت ’’صدقات (زکوۃ) تو فقراء اور مساکین کے لیے ہیں ..... علیم حکیم۔‘‘ تک تلاوت فرمائی۔فرمایا یہ (آیت) ان کے لیے ہے،پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:’’جان لو جو تم نے مالِ غنیمت حاصل کیا اس میں سے خمس اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔..... مسافر‘‘ تک تلاوت فرمائی،پھر فرمایا: یہ ان کے لیے ہے،پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:’’اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو جو دیا ..... حتی کہ وہ فقراء کے لیے‘‘ تک پہنچے،پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:’’وہ لوگ جو ان کے بعد آئے۔‘‘ پھر فرمایا: یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے،اگر میں زندہ رہا تو سروحمیر (یمن کے شہر) کے چرواہے کو مشقت اٹھائے بغیر اس سے اس کا حصہ پہنچ جائے گا۔اسنادہ صحیح،رواہ فی شرح السنہ۔