Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4062 (مشکوۃ المصابیح)

[4062] سندہ ضعیف، رواہ أبو داود (2967) ٭ الزھري صرح بالسماع في أصل الحدیث و لکنہ عنعن في ھذا اللفظ وھو مدلس مشھور .

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعنہُ قَالَ: كانَ فِيمَا احتجَّ فيہِ عُمَرُ أَنْ قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ ثَلَاثُ صَفَايَا بَنُو النَّضِيرِ وخيبرُ وفَدَكُ فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ فَكَانَتْ حَبْسًا لِنَوَائِبِہِ وَأَمَّا فَدَكُ فَكَانَتْ حَبْسًا لِأَبْنَاءِ السَّبِيلِ وَأَمَّا خَيْبَرُ فَجَزَّأَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ ثَلَاثَةٌ أَجزَاء: جزأين بينَ المسلمينَ وجزءً نَفَقَةً لِأَہْلِہِ فَمَا فَضُلَ عَنْ نَفَقَةِ أَہْلِہِ جَعَلَہُ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُہَاجِرِينَ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ

مالک بن اوس بن حدثان ؓ بیان کرتے ہیں کہ عمر ؓ کا استدلال یہ تھا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے تین مقامات کا مال مخصوص تھا،بنو نضیر،خیبر اور فدک کا۔بنو نضیر کی زمین وہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ضروریات کے لیے مختص تھی،فدک مسافروں کے لیے مختص اور خیبر کی زمین کو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا،دو حصے مسلمانوں کے لیے اور ایک حصہ اپنے اہل خانہ کے نفقہ کے لیے مقرر فرمایا۔آپ کے اہل خانہ کے نفقہ سے جو بچ جاتا وہ آپ فقراء مہاجرین کے درمیان تقسیم فرما دیتے۔سندہ ضعیف،رواہ ابوداؤد۔