Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4066 (مشکوۃ المصابیح)
[4066] متفق علیہ، رواہ البخاري (5478) و مسلم (8/ 1930)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن أبي ثَعْلَبَة الْخُشَنِي قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللہِ إِنَّا بِأَرْضِ قوم أہل كتاب أَفَنَأْكَلُ فِي آنِيَتِہِمْ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَبِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ فَمَا يصلح؟ قَالَ: ((أما ذَكَرْتَ مِنْ آنِيَةِ أَہْلِ الْكِتَابِ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَہَا فَلَا تَأْكُلُوا فِيہَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فاغسلوہا وَكُلُوا فِيہَا وَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللہِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللہِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ غَيْرِ معلم فأدركت ذَكَاتہ فَكل))
ابوثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے عرض کیا،اللہ کے نبی! ہم اہل کتاب کی سرزمین پر رہائش پذیر ہیں،کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیا کریں،اور اسی سرزمین پر میں اپنی کمان اور اپنے غیر سدھائے ہوئے اور سدھائے ہوئے کتے کے ذریعے شکار کرتا ہوں،تو میرے لیے کیا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم نے جو اہل کتاب کے برتنوں کا ذکر کیا ہے تو اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن میسر آ جائیں تو پھر ان میں مت کھاؤ،اور اگر میسر نہ آئیں تو پھر انہیں دھو کر ان میں کھا لو۔اور تم نے اپنی کمان سے جو شکار کیا ہے اگر تم نے اس پر اللہ کا نام ذکر کیا ہے تو کھا لو،اور تم نے جو اپنے سدھائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کیا ہے اور اللہ کا نام ذکر کیا ہے تو کھا لو اور تم نے اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے سے جو شکار کیا ہے اگر اسے ذبح کر لو تو کھا لو۔‘‘ متفق علیہ۔